منصور نے اپنے دارالحکومت کا نام مدینۃ السلام، یعنی امن کا شہر، رکھا۔ اس کی تین دائرہ نما فصیلوں میں سلطنت کی چاروں سمتوں کی طرف چار دروازے تھے، اور مرکز میں خلیفہ کا محل اور جامع مسجد تھی۔
ہارون الرشید اور مامون کے دور میں بیت الحکمت کے عالموں نے یونانی، فارسی اور ہندی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا۔ یہیں خوارزمی نے وہ کتاب لکھی جس سے لفظ "الجبرا" نکلا۔
1258 میں ہلاکو خان کی قیادت میں منگولوں نے شہر تباہ کر دیا۔ گول شہر کا بہت کم حصہ باقی ہے، مگر بغداد آج بھی عراق کا دارالحکومت ہے۔
