موہن جو دڑو، یعنی سندھی میں "مُردوں کا ٹیلا"، کانسی کے دور کے سب سے بڑے شہروں میں سے تھا۔ اپنے عروج پر یہاں شاید چالیس ہزار لوگ رہتے تھے، اور اس کی گلیاں بڑی احتیاط سے سیدھی قطاروں میں بنائی گئی تھیں۔
تقریباً ہر گھر میں نہانے کی جگہ تھی، اور گندا پانی گلیوں کے ساتھ بنی ڈھکی ہوئی نالیوں میں بہتا تھا۔ یہاں آج تک کوئی محل یا شاہی قبر نہیں ملی، جو ماہرین کو اب بھی حیران کرتی ہے: اس شہر پر حکومت کون کرتا تھا؟
یہ مقام 1922 میں ماہرِ آثارِ قدیمہ آر ڈی بینرجی نے دریافت کیا۔ اس کی تحریر، یعنی سندھ رسم الخط، آج تک پڑھی نہیں جا سکی، اس لیے اس شہر کا اپنا اصل نام بھی کوئی نہیں جانتا۔
