نویں اور دسویں صدی میں سامانی حکمرانوں نے بخارا کو فارسی ثقافت کا مرکز بنایا۔ شاعر رودکی نے یہیں لکھا، اور 980 میں بخارا کے قریب پیدا ہونے والے نوجوان ابنِ سینا نے شاہی کتب خانے میں تعلیم پائی۔
صحیح بخاری کے مرتب امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ 810 عیسوی میں اسی شہر میں پیدا ہوئے۔
1127 میں بنا کلان مینار چنگیز خان کو اتنا پسند آیا کہ 1220 میں شہر جلاتے وقت اس نے اسے چھوڑ دیا۔ پرانا شہر آج بھی لبِ حوض کے تالاب کے گرد بڑی حد تک قائم ہے۔
