1639 میں شہنشاہ شاہ جہاں نے دہلی میں ایک نیا دارالحکومت شاہجہان آباد بسانا شروع کیا، اور اس کے مرکز میں دریائے جمنا کے کنارے سرخ پتھر کا ایک فصیل بند محل۔ لال قلعہ 1648 میں مکمل ہوا، اور اس کا نقشہ استاد احمد لاہوری سے منسوب ہے، جن کا نام تاج محل سے بھی جڑا ہے۔
فصیل کے اندر سنگِ مرمر کے دیوان، باغات اور بہتے پانی کی نہریں تھیں۔ دیوانِ خاص میں مشہور تختِ طاؤس رکھا تھا، جسے 1739 میں ایران کا نادر شاہ لے گیا۔ اس کی دیواروں پر آج بھی فارسی شعر لکھا ہے: "اگر فردوس بر روئے زمین است، ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است۔"
1857 کی جنگِ آزادی کے بعد انگریزوں نے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو جلاوطن کر دیا اور قلعے کو فوجی بیرک بنا دیا۔ یونیسکو نے اسے 2007 میں عالمی ورثہ قرار دیا۔
