SomeThing Historic

کارکاسون کا قلعہ بند شہر

  • یونیسکو عالمی ورثہ
  • حصار
  • رومی دیواریں؛ قلعہ اور بیرونی فصیل بارہویں تیرہویں صدی
  • ترینکاویل حکمران، پھر فرانس کے بادشاہ

دوہری فصیل اور 52 برجوں کے اندر پورا قرونِ وسطیٰ کا شہر۔

تعمیر
رومی دیواریں؛ قلعہ اور بیرونی فصیل بارہویں تیرہویں صدی
بانی
ترینکاویل حکمران، پھر فرانس کے بادشاہ
مقام
کارکاسون، اوکسیتانی، فرانس
یونیسکو
1997 میں شامل

کہانی

دریائے اود کے اوپر ایک پہاڑی پر رومیوں نے کارکاسون کی پہلی دیواریں بنائیں۔ بارہویں صدی میں ترینکاویل حکمرانوں نے یہاں قلعہ، شاتو کونتال، بنوایا اور یہ شہر کیتھار نامی ایک مسیحی تحریک کا مرکز بن گیا، جسے کلیسا نے بدعتی قرار دیا تھا۔

1209 میں کیتھاروں کے خلاف ایک صلیبی مہم نے کارکاسون کا محاصرہ کر کے اسے فتح کر لیا۔ پھر فرانس کے بادشاہوں نے دوسری بیرونی فصیل بنوائی، جس سے یہ شہر تقریباً ناقابلِ تسخیر ہو گیا: تقریباً تین کلومیٹر لمبی فصیل اور 52 برج۔

انیسویں صدی تک دیواریں گر رہی تھیں اور حکومت انہیں گرانے کا سوچ رہی تھی۔ مقامی لوگوں نے احتجاج کیا، اور 1853 سے معمار وائیولے لے دوک نے انہیں بحال کیا اور وہ نوکیلی سلیٹ کی چھتیں بنائیں جو آج نظر آتی ہیں۔ 1997 میں یہ یونیسکو عالمی ورثہ قرار پایا۔

ضرور دیکھیں

  1. شاتو کونتال، فصیل کے اندر قلعہ
  2. اندرونی اور بیرونی فصیل کے درمیان سیر
  3. پورت ناربونیز، صدر دروازہ
  4. سینٹ نازیر کا گرجا

صدیوں کا سفر

  1. رومی دور شہر کی پہلی دیواریں بنیں
  2. تقریباً 1130 ترینکاویل حکمرانوں نے قلعہ بنوایا
  3. 1209 کیتھاروں کے خلاف صلیبی مہم میں فتح ہوا
  4. 1853 وائیولے لے دوک نے بحالی شروع کی
  5. 1997 یونیسکو عالمی ورثہ قرار پایا

یورپ سے مزید

سب دیکھیں

یہ بھی دیکھیں

سب دیکھیں