1142 میں طرابلس کے کاؤنٹ نے مغربی شام میں ایک پہاڑی قلعہ صلیبی جنگوں کے فوجی گروہ نائٹس ہاسپٹلر کو دیا۔ اگلی صدی میں انہوں نے اسے کراک دے شیوالیہ یعنی "نائٹوں کا قلعہ" بنا دیا، جس میں موٹی دیواروں کے دو حصار اور بڑے گول برج ہیں۔
یہ قلعہ کئی محاصروں میں ڈٹا رہا۔ 1271 میں مملوک سلطان بیبرس نے اسے گھیرا، بیرونی فصیل توڑی اور تاریخ کے مطابق ایک جعلی خط کے ذریعے نائٹوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا۔ پھر مملوکوں نے اس کی مرمت کر کے اسے مزید مضبوط کیا۔
نوجوان ٹی ای لارنس نے 1909 میں اس کا مطالعہ کیا اور اسے شاید دنیا کا سب سے محفوظ اور قابلِ تعریف قلعہ کہا۔ 2006 میں قلعۂ صلاح الدین کے ساتھ اسے یونیسکو عالمی ورثہ قرار دیا گیا۔
