اس عجائب گھر کی پہلی عمارت 1937ء میں کھلی، جس کا اینٹوں کا عظیم محرابی دروازہ ساسانی محل طاقِ کسریٰ سے متاثر ہے۔ بعد میں اسلامی دور کے لیے دوسری عمارت بنائی گئی۔
اس کی گیلریوں میں تختِ جمشید، شوش اور قدیم ایران کے دوسرے بڑے آثار سے ملی اشیا ہیں، ہخامنشی بادشاہوں سے صفوی شاہوں تک۔
