بابر کو وسطی ایشیا کے باغ اتنے یاد آتے تھے کہ ہندوستان آ کر اس نے سب سے پہلے جو کام کیے ان میں ایک باغ لگانا بھی تھا۔ اس کی اولاد نے چار باغ کو، یعنی پانی کی نہروں سے چار حصوں میں بٹے باغ کو، اپنی حکومت کی علامت بنا دیا۔
ان میں سے کئی باغوں کی سیر آج بھی کی جا سکتی ہے: کابل کا باغِ بابر، جہاں پہلا مغل بادشاہ دفن ہے؛ لاہور کا شالامار باغ، جو شاہ جہاں نے بنوایا؛ سری نگر میں جھیل ڈل کے کنارے نشاط باغ اور شالیمار باغ؛ اور دہلی میں ہمایوں کے مقبرے کے باغ۔
صبح سویرے جائیں، جب فوارے چل رہے ہوں اور روشنی نرم ہو، تو آپ سمجھ جائیں گے کہ مغل ان باغوں کو جنت کی جھلک کیوں کہتے تھے۔
