نواب میر یوسف علی خان سالار جنگ سوم نظامِ حیدرآباد کے وزیرِ اعظم رہے اور ساری عمر دنیا بھر سے فن پارے جمع کرتے رہے۔ ان کا ذخیرہ 1951ء میں عوام کے لیے کھولا گیا۔
اس میں ایرانی قالینوں اور یشب کے خنجروں سے یورپی مجسموں اور گھڑیوں تک سب کچھ ہے، اور یہ کسی ایک شخص کے جمع کیے گئے سب سے بڑے ذخیروں میں سے ہے۔
