بعد کے داستان گو کہتے ہیں کہ اکبر کے دربار میں نو غیر معمولی لوگ تھے جنہیں نورتن کہا جاتا تھا۔
ان میں ابوالفضل تھے جنہوں نے اس دور کی تاریخ لکھی؛ گلوکار تان سین، جن کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کے راگ سے چراغ جل اٹھتے تھے؛ راجہ ٹوڈرمل، جنہوں نے لگان کا نظام نئے سرے سے ترتیب دیا؛ اور بیربل، جن کی حاضر جوابی لوک کہانیوں کا حصہ بن گئی۔
مؤرخین میں اختلاف ہے کہ یہ نو لوگ کبھی ایک ساتھ ایک حلقہ تھے یا نہیں۔ مگر یہ روایت ایک سچائی ضرور بیان کرتی ہے: اکبر کا دربار سلطنت کے ہر مذہب اور ہر خطے سے قابل لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔
