۱۵۶۹ء میں برسوں کے انتظار کے بعد اکبر کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ بادشاہ کا عقیدہ تھا کہ یہ نعمت صوفی بزرگ شیخ سلیم چشتی کی دعا سے ملی، جو آگرہ کے مغرب میں سیکری کی پتھریلی پہاڑی پر رہتے تھے۔
شکرانے کے طور پر اکبر نے شیخ کی مسجد کے گرد ایک پورا نیا شہر بسانے کا حکم دیا۔ سرخ پتھر سے محل، صحن، ٹکسال اور ایک عظیم مسجد تعمیر ہوئی۔ ۱۵۷۳ء میں گجرات کی فتح کے بعد اس شہر کا نام فتح پور سیکری یعنی فتح کا شہر رکھا گیا۔
بلند دروازہ آج بھی شہر پر سایہ فگن ہے۔ مگر پندرہ برس کے اندر دربار کہیں اور منتقل ہو گیا، شاید پانی کی قلت کی وجہ سے، اور فتح کا شہر تقریباً ویران رہ گیا۔
